بنگلا دیش نے ایک اہم اسٹریٹجک اور معاشی فیصلہ کرتے ہوئے چٹاگانگ میں قائم کیے جانے والے انڈین اکنامک زون کے منصوبے کو باضابطہ طور پر منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے ملکی ترجیحات میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق اس فیصلے کے تحت اب مذکورہ منصوبے کی جگہ فوجی اور دفاعی صنعتوں کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے لیے ایک نیا ڈیفنس اکنامک زون قائم کیا جائے گا۔
بنگلا دیشی حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد دفاعی پیداوار کے شعبے کو مضبوط بنانا اور ملکی سلامتی سے جڑی ضروریات کو زیادہ مؤثر انداز میں پورا کرنا ہے۔ اس تناظر میں دفاعی صنعتوں کے فروغ کو مستقبل کی معاشی اور اسٹریٹجک حکمتِ عملی کا حصہ بنایا گیا ہے۔
بنگلا دیش اکنامک زونز اتھارٹی کے ایگزیکٹو چیئرمین چوہدری عاشق محمود بن ہارون نے ڈھاکا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصلے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ چٹاگانگ میں انڈین اکنامک زون کے قیام کا منصوبہ اب مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے اور اس کے لیے مختص زمین کو دفاعی اور عسکری صنعتوں کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
چوہدری عاشق محمود کے مطابق یہ فیصلہ بنگلا دیش اکنامک زونز اتھارٹی کے گورننگ بورڈ کے حالیہ اجلاس میں کیا گیا، جہاں ملک کی طویل المدتی معاشی ضروریات اور دفاعی ترجیحات کو تفصیل سے زیرِ غور لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بنگلا دیش اب فوجی اور دفاعی صنعتوں میں خود کفالت کی جانب بڑھنا چاہتا ہے، تاکہ نہ صرف ملکی دفاع کو مضبوط بنایا جا سکے بلکہ جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی ترقی حاصل کی جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈیفنس اکنامک زون کے قیام سے مقامی سطح پر اسلحہ سازی، دفاعی سازوسامان اور متعلقہ ٹیکنالوجی کی تیاری میں اضافہ متوقع ہے، جس کے نتیجے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور صنعتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔ حکام کے مطابق یہ منصوبہ ملکی معیشت کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انڈین اکنامک زون کی منسوخی اور ڈیفنس اکنامک زون کے قیام کا فیصلہ خطے میں بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال اور بنگلا دیش کی اسٹریٹجک ترجیحات کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بنگلا دیش کی دفاعی خودمختاری کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
حکام نے مزید بتایا کہ ڈیفنس اکنامک زون کے خدوخال، سرمایہ کاری کے مواقع اور منصوبے کے عملدرآمد سے متعلق تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی، جبکہ اس فیصلے کے بعد خطے میں معاشی اور دفاعی سطح پر پڑنے والے اثرات پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔