لاہور میں بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن میں گرنے والی خاتون کی لاش تقریباً تین کلو میٹر دور آؤٹ فال روڈ سے برآمد کر لی گئی ہے، جبکہ خاتون کی 9 ماہ کی بچی کی تلاش کا عمل تاحال جاری ہے۔ واقعے نے شہر بھر میں تشویش کی فضا پیدا کر دی ہے۔
متاثرہ خاندان سیر و تفریح کی غرض سے لاہور آیا تھا اور مینار پاکستان کے بعد داتا دربار پہنچا تھا۔ اسی دوران خاتون اور ان کی کمسن بچی سیوریج لائن کی منڈیر پر بیٹھیں، جہاں سے دونوں اچانک نیچے گر گئیں، جس کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے، جو 24 گھنٹوں کے اندر تحقیقات مکمل کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ڈائریکٹر ٹیپا شبیر حسین کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ غفلت اور کوتاہی کے مرتکب پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد عباس اور ڈپٹی ڈائریکٹر شبیر احمد کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔
خاتون کی لاش ملنے سے قبل ریسکیو ذرائع کا کہنا تھا کہ جس سیوریج ہول میں دو افراد کے گرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، اس میں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ممکن نہیں۔ ذرائع کے مطابق جس مقام کی نشاندہی کی گئی تھی وہ داتا دربار کے قریب پرندہ مارکیٹ کے علاقے میں واقع ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے اس مقام پر پہلے سے کھدائی کر رکھی تھی، جبکہ واقعے کے وقت علاقے میں اندھیرا بھی تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو 1122 کی خصوصی ٹیمیں اور غوطہ خور چند ہی منٹوں میں جائے وقوع پر پہنچ گئے تھے۔
دوسری جانب لاہور انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ سیوریج لائن کا معائنہ کیا گیا، تاہم ابتدائی جانچ میں وہاں کسی حادثے کے شواہد نہیں ملے۔
ادھر لاپتہ خاتون کے والد نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ ان کی بیٹی کو قتل کیا گیا ہے، جس کے بعد خاتون کے شوہر سمیت تین افراد کو حراست میں لیا گیا، تاہم بعد ازاں شواہد نہ ملنے پر انہیں رہا کر دیا گیا۔