دفتر خارجہ کے حکام نے بتایا ہے کہ پاکستان اور چین نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کو افغانستان تک پھیلانے کا فیصلہ کیا ہے، جسے علاقائی رابطوں کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ حالات عارضی طور پر خراب ہیں، تاہم چین دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کو دی گئی بریفنگ میں دفتر خارجہ کے حکام نے کہا کہ علاقائی تعاون کے مختلف فریم ورک بھارت کی وجہ سے مؤثر طور پر کام نہیں کر پا رہے، جبکہ سارک کا پلیٹ فارم بھی بھارتی رویے کے باعث غیر فعال ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان نے دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ دوطرفہ اور کثیرالجہتی روابط کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی ہے۔
حکام کا کہنا تھا کہ چین کو افغانستان میں دہشت گردی کے حوالے سے سنجیدہ خدشات لاحق ہیں اور اس معاملے پر پاکستان اور چین کا مؤقف یکساں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سی پیک کی توسیع کے ذریعے بیلٹ کوریڈورز کو میری ٹائم سلک روڈ سے منسلک کیا جائے گا، جبکہ پاکستان نے عملی طور پر سی پیک کو افغانستان تک وسعت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق اگرچہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالات اس وقت عارضی طور پر کشیدہ ہیں، تاہم چین دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور تعلقات کی بہتری کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔
سیکریٹری خارجہ نے قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پاکستان کسی ایک عالمی بلاک کا حصہ نہیں بنے گا بلکہ متوازن خارجہ پالیسی کے تحت عالمی سفارت کاری میں اپنی اہمیت برقرار رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک عالمی خطرہ ہے جس کا سامنا تمام ممالک کو ہے، اور اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ فوجی مشقیں بھی کی جاتی ہیں، جن کا بنیادی مقصد دہشت گرد تنظیموں کی سرحد پار نقل و حرکت کو روکنا ہے۔