ریسکیو حکام نے بتایا ہے کہ سانحۂ گل پلازا میں جاں بحق ہونے والے 69 افراد کی شناخت اب تک مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ متاثرہ خاندانوں کو میتوں کی حوالگی کا عمل مرحلہ وار جاری ہے۔ حکام کے مطابق آج چار خواتین سمیت مجموعی طور پر 27 افراد کی میتیں لواحقین کے حوالے کی جائیں گی، جس کے بعد اب تک لواحقین کو دی جانے والی لاشوں کی مجموعی تعداد 66 ہو جائے گی۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ تاحال تین افراد کی میتیں سرد خانے میں موجود ہیں، جن کی شناخت ہونا باقی ہے، جبکہ ان کی شناخت کے لیے متعلقہ عمل مسلسل جاری رکھا گیا ہے۔
دوسری جانب سانحۂ گل پلازا پر حکومت کی جانب سے قائم کی گئی تحقیقاتی کمیٹی کی تفتیشی رپورٹ بھی منظرِ عام پر آ گئی ہے، جس میں فائر بریگیڈ اور پولیس کی نااہلی اور انتظامی خامیوں کو واضح طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آگ گراؤنڈ فلور پر واقع نیو توکل فلاور اینڈ گفٹ شاپ میں رات تقریباً سوا 10 بجے لگی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دکان کے مالک نے اپنے 11 سالہ بیٹے کو دکان پر چھوڑ رکھا تھا، جس نے ماچس کی تیلی جلائی جو غلطی سے مصنوعی پھولوں پر گر گئی، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور آتش گیر مواد کی موجودگی کے باعث تیزی سے پھیلتی چلی گئی۔
تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چوکیدار نے آگ لگنے کے تقریباً پانچ منٹ بعد بجلی بند کی، جبکہ اس وقت عمارت کے اندر اندازاً دو ہزار سے ڈھائی ہزار افراد موجود تھے، جس سے ہنگامی صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔
رپورٹ کے مطابق غیر محفوظ برقی وائرنگ، ایئر کنڈیشنرز اور کھلے پائپس نے آگ کی شدت میں اضافہ کیا۔ مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ بیسمنٹ کے علاوہ عمارت میں مرکزی ایئر کنڈیشننگ سسٹم موجود نہیں تھا، جبکہ اے سی ڈکٹس کے ذریعے انتہائی کم وقت میں آگ بیرونی گیٹس کی چھت تک جا پہنچی، جس کے باعث ریسکیو اور انخلا کی کوششیں شدید متاثر ہوئیں۔