سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف سلمان اکرم راجا نے دعویٰ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے اور انہیں ہفتے کی شام خفیہ طور پر اڈیالہ جیل سے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز منتقل کر کے آنکھ کی سرجری کی گئی۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق حکومتی حلقے پانچ دن تک مسلسل غلط بیانی کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت نے بالآخر اس بات کو تسلیم کیا تو وہ اڈیالہ جیل گئے، جہاں عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم اور آئی اسپیشلسٹ ڈاکٹر خرم بھی جیل پہنچے۔
سیکرٹری جنرل تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ پمز اسپتال میں بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کی سرجری کی گئی، تاہم عمران خان کے اہلِ خانہ کو یہ نہیں بتایا گیا کہ انہیں کس وجہ سے اسپتال منتقل کیا گیا۔ انہوں نے اس عمل کو شفافیت کے منافی قرار دیا۔
سلمان اکرم راجا کے مطابق اس وقت سپریم کورٹ کے باہر تقریباً 200 پارلیمنٹیرینز موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اور لطیف کھوسہ کچھ دیر قبل چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی سے ملاقات کے لیے گئے تھے، تاہم چیف جسٹس اپنے چیمبر میں موجود نہ ہونے کے باعث ملاقات نہ ہو سکی۔
ان کا کہنا تھا کہ بعد ازاں چیف جسٹس پاکستان کی ہدایت پر رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات کی گئی، جو خود سیشن جج بھی ہیں، اور انہیں پوری صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو بھی تمام حقائق بتا دیے گئے ہیں، جبکہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو اب تک 16 درخواستیں دی جا چکی ہیں، تاہم ان پر کوئی عملی کارروائی سامنے نہیں آئی۔