سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ 8 فروری کو جلاؤ، گراؤ کی جو کال دی گئی تھی، اسے عوام اور نوجوان نسل نے مکمل طور پر مسترد کر کے اس سوچ کو ناکام بنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام نے ثابت کر دیا کہ وہ انتشار اور تخریب کی سیاست کے بجائے امن، خوشی اور ثقافتی سرگرمیوں کو ترجیح دیتے ہیں۔
حویلی آصف جاہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ لاہور اور پورے پاکستان کی فتح ہوئی ہے اور عوام نے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کر کے مثبت پیغام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بسنت کے حوالے سے ایک مشکل مگر ضروری فیصلہ کیا اور اس پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کرایا گیا۔
مریم اورنگزیب نے بتایا کہ لاہور میں ڈور اور پتنگ بنانے والے افراد کو باقاعدہ رجسٹر کیا گیا، جبکہ 14 لاکھ موٹر سائیکلوں پر حفاظتی سیفٹی راڈز نصب کی گئیں تاکہ حادثات سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے 512 بسوں کے ذریعے مفت ٹرانسپورٹ سروس مہیا کی گئی، جس سے تین دنوں میں تقریباً 20 لاکھ افراد نے سفر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان دنوں کے دوران پنجاب میں 10 لاکھ سے زائد گاڑیاں داخل ہوئیں، جبکہ ضلعی انتظامیہ نے وزیراعلیٰ کے وژن کے مطابق بہترین انتظامات کیے اور مجموعی طور پر صورتحال کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ ثقافت اور کلچر پر تالے نہیں لگائے جاتے بلکہ انہیں بہتر منصوبہ بندی اور نظم و ضبط کے ساتھ منظم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لاہوریوں کے جوش و جذبے کو دیکھتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے بسنت منانے کا وقت شام 5 بجے تک بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے کے بعد بسنت کی سرکاری تقریبات منسوخ کر دی گئیں، جبکہ گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں نوجوانوں کے ذہنوں میں نفرت بھرنے کی کوشش کی گئی۔ مریم اورنگزیب نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ سال بسنت اس سے بھی زیادہ بھرپور اور منظم انداز میں منائی جائے گی۔