محکمۂ تعلیم سندھ نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ سالانہ امتحانات کے اختتام کے بعد طلبہ کو مفت فراہم کی گئی درسی کتب لازمی طور پر واپس لی جائیں۔ اس اقدام کا مقصد تعلیمی وسائل کے مؤثر استعمال اور کتب کے ریکارڈ کو منظم بنانا بتایا گیا ہے۔
محکمۂ تعلیم سندھ کے ترجمان کے مطابق اسکول انتظامیہ کو پابند کیا گیا ہے کہ طلبہ کے رزلٹ کارڈ پر درسی کتب کی واپسی کا باقاعدہ اندراج کیا جائے، جبکہ جاری کی گئی اور واپس حاصل ہونے والی تمام کتابوں کا مکمل اور درست ریکارڈ بھی مرتب کیا جائے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ جمع شدہ تمام درسی کتب کو اسکول بُک بینک میں محفوظ رکھا جائے تاکہ آئندہ تعلیمی سال میں ان کا درست استعمال ممکن بنایا جا سکے۔
محکمۂ تعلیم کی جانب سے یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ پرائمری سے ہائیر سیکنڈری سطح تک تمام طلبہ سے کتابوں کی واپسی یقینی بنائی جائے، جبکہ ضلعی تعلیمی افسران کتب کے اسٹاک سے متعلق تفصیلی ریکارڈ ریجنل ڈائریکٹرز کو جمع کروائیں گے تاکہ نگرانی کا عمل مؤثر بنایا جا سکے۔