کراچی: سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے قائم تحقیقاتی کمیشن نے ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کو 47 سوالات پر مشتمل تفصیلی سوالنامہ جاری کرتے ہوئے ان سے تحریری جوابات طلب کر لیے ہیں، جب کہ کمیشن نے متعلقہ عمارت کا مکمل ریکارڈ بھی فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں کمیشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں گل پلازہ سے متعلق مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا، اور اس دوران کمیشن نے ڈی جی ایس بی سی اے کو باقاعدہ سوالنامہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ تمام نکات کے جامع اور مستند جوابات فراہم کیے جائیں۔ مزید برآں، ایس بی سی اے سے گل پلازہ کی تعمیر، منظوری اور دیگر متعلقہ امور کا مکمل ریکارڈ بھی طلب کر لیا گیا ہے تاکہ حقائق کو واضح کیا جا سکے۔
اجلاس کے دوران جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایس بی سی اے کا مؤقف ہوتا ہے کہ جب تک کوئی شکایت موصول نہ ہو وہ کارروائی نہیں کر سکتے، تاہم آج پیش آنے والے ایک اور واقعے میں 15 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جس پر اداروں کی ذمہ داری اور مؤثر نگرانی سے متعلق سوالات جنم لیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ عمارت 40 سے 50 گز کے فاصلے پر تعمیر کی گئی تھی، اور اسی فاصلے پر ہائی رائز عمارت کی اجازت بھی دی جا سکتی ہے، بظاہر اس عمارت کے حوالے سے بھی کسی نے شکایت درج نہیں کرائی ہوگی، جس سے نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھتے ہیں۔
کمیشن نے ڈی سی ساؤتھ جاوید کھوسو سے استفسار کیا کہ آپریشن کی کمانڈ کس کے پاس تھی، جس پر بتایا گیا کہ کسی ایک فرد کے پاس باقاعدہ کمانڈ موجود نہیں تھی۔ اس موقع پر جاوید کھوسو نے مؤقف اختیار کیا کہ آگ لگنے کے وقت وہ قریب ہی موجود تھے اور سب سے پہلے موقع پر پہنچے، انہوں نے پروٹوکول کے مطابق فوری طور پر ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کیا، جب کہ ایس ایس پی سٹی بھی فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے۔