امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں حکومت تبدیل ہو چکی ہے اور امریکا اب نئے افراد کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے، جنہیں انہوں نے پہلے سے زیادہ معقول قرار دیا۔
اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جلد واضح ہو جائے گا کہ ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف امریکا کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں یا نہیں، اور اس حوالے سے ایک ہفتے کے اندر صورتحال سامنے آ جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران میں نئی قیادت کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور اب تک یہ نئے لوگ پہلے کے مقابلے میں زیادہ مثبت اور معقول رویہ ظاہر کر رہے ہیں۔
سپریم لیڈر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کے بارے میں کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئیں، تاہم ان کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں لیکن ان کی حالت بہتر نہیں ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ طے نہ پایا اور آبنائے ہرمز کو جلد نہ کھولا گیا تو امریکا ایران کے بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں، تیل کے کنوؤں اور پانی صاف کرنے والے پلانٹس سمیت دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے، جنہیں اب تک دانستہ طور پر محفوظ رکھا گیا تھا۔