وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی کے ڈھانچے سے متعلق آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت کی جائے، تاکہ عالمی سطح پر بڑھتی تیل کی قیمتوں کا بوجھ عوام پر منتقل ہونے سے روکا جا سکے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے منگل کو فنانس ڈویژن کو ہدایت جاری کی کہ وہ یہ معاملہ آئی ایم ایف کے سامنے اٹھائے اور موجودہ لیوی کے ذریعے پیٹرولیم قیمتوں میں ممکنہ ردوبدل کو متوازن بنانے کے لیے تجاویز پیش کرے۔ اس وقت حکومت پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے جبکہ ڈیزل پر 55 روپے لیوی عائد کر رہی ہے، جو آئی ایم ایف کی شرائط کا حصہ ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت پہلے ہی ایندھن کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے 129 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کر چکی ہے، جو ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور دیگر اخراجات میں بچت کے ذریعے ممکن بنائی گئی۔
حکام کے مطابق ایران جنگ کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے ملکی سطح پر پیٹرولیم نرخوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے، تاہم وزیراعظم نے واضح ہدایت دی ہے کہ ہر ممکن اقدام کیا جائے تاکہ اس صورتحال کا براہ راست اثر عوام پر نہ پڑے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فنانس ڈویژن کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے ساتھ پیٹرولیم لیوی کی ممکنہ تشکیل نو پر ایک جامع اور تفصیلی تجویز پیش کرے، جبکہ حکومت مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ عالمی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ کم سے کم عوام تک منتقل ہو۔