جنوبی کوریا نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا ایران سے دوری اختیار کر رہا ہے اور اس نے حالیہ کشیدگی کے دوران تہران کو ہتھیار فراہم نہیں کیے، جس کا مقصد ممکنہ طور پر امریکا کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی ہو سکتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا اپنے دیرینہ اتحادی ایران سے فاصلہ بڑھاتا دکھائی دے رہا ہے تاکہ مستقبل میں امریکا کے ساتھ نئے تعلقات قائم کیے جا سکیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق قانون ساز پارک سن وون نے بند کمرہ بریفنگ میں بتایا کہ سیول کی نیشنل انٹیلی جنس سروس کو ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ شمالی کوریا نے فروری کے آخر میں شروع ہونے والی امریکا اسرائیل کشیدگی کے بعد ایران کو ہتھیار یا دیگر سامان فراہم کیا ہو۔
نیشنل انٹیلی جنس سروس کے مطابق جہاں ایران کے دیگر اتحادی چین اور روس کی جانب سے اس تنازع پر متعدد بیانات سامنے آئے، وہیں شمالی کوریا کی وزارت خارجہ نے اب تک صرف دو محتاط نوعیت کے بیانات جاری کیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اگرچہ پیانگ یانگ نے امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مذمت کی، تاہم اس نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر کوئی عوامی تعزیتی بیان جاری نہیں کیا اور نہ ہی مجتبیٰ خامنہ ای کے جانشین بننے پر کوئی مبارکباد دی۔
پارک سن وون کے مطابق انٹیلی جنس ادارے کا مؤقف ہے کہ شمالی کوریا اس محتاط حکمت عملی کو اس لیے اپنا رہا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کے بعد امریکا کے ساتھ ایک نئے سفارتی باب کا آغاز کیا جا سکے۔