امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت فوجی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا چاہے تو ایران کو صرف ایک رات میں مکمل طور پر تباہ کر سکتا ہے، اور ایسی کارروائی منگل کی رات بھی ممکن ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے پاس ایران کے خلاف ایسے سخت آپشنز موجود ہیں جو صرف پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنانے سے کہیں زیادہ وسیع اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے کسی معاہدے پر رضامندی ظاہر نہ کی یا آبنائے ہرمز دوبارہ نہ کھولی تو ایرانی انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں بھی ایران کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ منگل ایرانی پاور پلانٹس اور پلوں کے لیے فیصلہ کن دن ہو سکتا ہے، اور کارروائی کے لیے 8 بجے شام (مشرقی وقت) کی ڈیڈ لائن کا ذکر بھی کیا تھا۔
دوسری جانب 45 روزہ جنگ بندی کی تجویز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم پیش رفت ضرور ہے لیکن ابھی اسے قابل قبول نہیں سمجھا جا رہا، جبکہ ایرانی حکام نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر حالات سازگار ہوئے تو ایرانی عوام اپنی حکومت کے خلاف کھڑے ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ آزادی چاہتے ہیں اور تبدیلی کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے ایرانی تیل پر قبضے کے امکان کا بھی ذکر کیا، تاہم اس حوالے سے کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ امریکی عوام اس اقدام کی حمایت کریں گے یا نہیں۔