روس بھارت کو تیل برآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک بن گیا جبکہ عراق پہلے اور سعودی عرب تیسرے نمبر پر ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارت کے تجارتی ذرائع سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال مئی کے مہینے میں روس نے بھارت کو وافر مقدار میں تیل فراہم کیا۔
بھارتی ریفائنریز کو مئی میں یومیہ بنیادوں پر 8 لاکھ 19 ہزار بیرل تیل روس سے موصول ہوا جبکہ اپریل میں یہی مقدار 2 لاکھ 77 ہزار تھی۔
مغربی ممالک کی طرف سے تیل فروخت کرنے کی پابندی کے بعد روس کے خام تیل کی قیمت کم ہوگئی ہے۔
مال برداری پر خرچ ہونے والے اخراجات کی وجہ سے بھارت روس سے زیادہ تیل درآمد نہیں کرتا۔ لیکن تیل کی قیمت میں کمی کے بعد بھارت نے روسی خام تیل خریدنے کا فیصلہ کیا۔
وسط ایشیائی ممالک کی طرف سے تیل کی قیمتیں بڑھائے جانے کے بعد بھارت نے روس کے علاوہ نائیجیریا سے بھی خام تیل درآمد کیا۔
مئی میں بھارت کی ماہانہ تیل درآمدات 49 لاکھ 80 ہزار بیرل رہیں جو دسمبر 2020 کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔