نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے بجلی چوری، ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے خلاف حکومتی کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔
اسام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ہماری میٹنگ میں پالیسی سے متعلق فیصلے ہوئے، عوام ذخیرہ اندوزوں سے متاثر ہو رہے ہیں، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ جو کارروائیاں ہوں گے اس کی میڈیا بھی گواہی دے گا، بہت ساری چیزیں ہماری حکومت کے کنٹرول میں نہیں، بین الاقوامی مارکیٹ پرائس سے جڑی چیزوں پر ریاستوں کا کنٹرول نہیں ہوتا مگر رویوں کو تبدیل کر کے ریلیف دینے کی کوشش کررہے ہیں۔
نگران وزیراعظم نے کہا ہے کہ افغانستان سے اسمگلنگ کی روک تھام کے لیےکام کررہے ہیں، غیر قانونی افغان باشندوں کے حوالے سے تین کیٹگریز ہیں، افغان پناہ گزین، غیرقانونی افغان اور وہ لوگ جو ہمارے سسٹم میں گھس آئے، یہ لوگ جعلی شناختی کارڈ بنوا کر رہ رہے ہیں۔
انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ ہم ان افغان ایلینز کو واپس بھیجیں گے، انہیں ہماری سرزمین پر رہنے کا حق نہیں۔
بجلی کی قیمتوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 200 یونٹ تک بجلی صارفین کے لئے ریلیف سے متعلق جلد فیصلہ کریں گے۔
تورخم بارڈر کھلنے سے متعلق انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ بارڈر کھلنے سے بھی ڈالرز کی اسمگلنگ ہونا آسان بات نہیں، ہم نے افغان حکومت کی درخواست پر بارڈر کھولا ہے جس پر وزارت کامرس، کسٹمز اور دیگر حکام نے لیڈ لی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت تعین کر رہی ہے کہ کونسی اشیاء پر تجارت کی جائے گی، البتہ اسمگل ہونے والی اشیاء پر زیرو ٹالیرنس ہے۔
اجلاس سے خطاب میں نگران وزیراعظم نے کہا کہ لوگوں میں تاثر جارہا تھا کہ ایک ہفتے کی مہم ہے، پہلے ایک کنفیوژن تھی کہ کون کارروائی کرےگا، لوگوں میں تاثر تھا حکومتی اقدامات ایک یا 2 ہفتےکے لئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سول ادارے اپنی کارکردگی کو بہتر کرے، ہمیں جہاں جہاں ضرورت پڑے گی تو گورننس کو بہتر کریں گے۔
انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ بجلی چوری، ذخیرہ اندوزی روکنے کے لئے اسٹریٹجی بنائی جائے گی، اور ان لوگوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی، ایک ہفتے سے تمام صوبوں سے اچھی خبریں آرہی ہیں، اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے جو اقدامات کئے گئے وہ اطمینان بخش ہیں۔