مودی حکومت کی مقبوضہ کشمیر پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش ایک بار پھر ناکامی سے دوچار ہوگئی، جب کہ تاریخ میں پہلی بار کشمیری عوام نے پانچ اگست کے اقدامات کے خلاف کھل کر مخالفت کی۔
رپورٹس کے مطابق شوپیان، سری نگر اور دیگر علاقوں میں لوگ بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ طویل عرصے کی خاموشی کے بعد کشمیری عوام نے ہمت کے ساتھ اپنی آواز بلند کی، جس سے بھارت کا جھوٹا بیانیہ واضح طور پر بے نقاب ہوگیا۔
بھارتی ریاستی جبر، سخت پابندیوں اور مسلسل خوف کے باوجود کشمیریوں نے دلیرانہ انداز میں احتجاج کیا۔ پانچ اگست کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف وادی میں غصہ دن بہ دن بڑھ رہا ہے۔
سری نگر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، تاہم عوامی ردِعمل حکومت کے قابو سے باہر نظر آ رہا ہے۔ شوپیان میں بینرز لگائے گئے، نعرے بازی کی گئی اور علامتی ریلیاں بھی نکالی گئیں۔
کشمیریوں نے واضح پیغام دیا کہ اب خاموشی کا وقت ختم ہوچکا ہے۔ کشمیر کی گلیوں میں گونجتی احتجاجی صداؤں نے نئی دہلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بھارتی میڈیا نے خاموشی اختیار کی، لیکن بین الاقوامی میڈیا نے اس آواز کو دنیا تک پہنچا دیا۔