بلوچستان کی بیوٹم یونیورسٹی کے ایک لیکچرر نے اپنے اعترافی بیان میں تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے ریاست کے ساتھ غداری کی، جس پر وہ سخت شرمندگی اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔
یہ اعترافی بیان کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی پریس کانفرنس کے دوران نشر کیا گیا، جس میں ملزم نے انکشاف کیا کہ دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے وہ ٹیلی گرام ایپلی کیشن استعمال کرتے تھے، اور انہیں اہداف بیرونِ ملک سے حربیار کی جانب سے دیے جاتے تھے۔
لیکچرر نے واضح الفاظ میں کہا کہ انہوں نے ریاست کے ساتھ غداری کی، اور اس پر ندامت محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں اور طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ انتشار پھیلانے والی کسی بھی تنظیم سے خود کو دور رکھیں اور اپنی توانائی تعلیم پر صرف کریں۔
اپنے اعترافی بیان میں لیکچرر نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ دہشت گردی کے منصوبوں میں سہولت کار کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست نے انہیں عزت اور وقار دیا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے وطن کے ساتھ غداری کی، جس پر وہ آج شرمندہ ہیں۔
یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے یومِ آزادی پر تباہی کے بڑے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سے بی ایل کا ایک سہولت کار پروفیسر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پروفیسر کے محرومی کے بیانیے کو بے نقاب کر دیا گیا ہے، اور عوام کو خبردار کیا کہ ایسے عناصر سے دور رہیں۔