سندھ میں سیلاب کے بعد پیدا ہونے والا گندم کا بحران دن بہ دن شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، جس کے تناظر میں پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ نے صوبے میں پیدا ہونے والے گندم کے مصنوعی بحران کی ذمہ داری براہ راست پنجاب حکومت پر عائد کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ کے چیئرمین عبدالجنید عزیز نے موجودہ صورتحال میں وفاقی حکومت سے فوری طور پر مطالبہ کیا ہے کہ وہ صوبے کو موجودہ بحران کے خاتمے کے لیے گندم کی درآمد کی فوری اجازت دے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر وفاقی حکومت نے سندھ کو یہ اجازت نہ دی تو آنے والے دنوں میں صورتحال مزید سنگین اور خراب ہو سکتی ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے آبی جارحیت اور اس کے بعد آنے والے سیلاب سے ہونے والی تباہی کے بعد پنجاب حکومت کی جانب سے گذشتہ ہفتے کے اختتام پر اچانک اور غیر متوقع طور پر گندم کی بین الصوبائی نقل و حمل پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ میں پنجاب کے مقابلے میں گندم کی فصل کی کٹائی فروری مہینے سے ہی شروع ہو جاتی ہے، جسے پنجاب سمیت ملک کے دیگر صوبوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ترسیل کی جاتی ہے، جبکہ پنجاب میں گندم کی پیداوار نسبتاً تاخیر سے ہوتی ہے۔
عبدالجنید عزیز نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ پنجاب حکومت نے اپنی مقامی ضروریات کی گندم پوری کرنے کے بعد یکایک اور غیر متوقع طور پر گندم کی بین الصوبائی نقل و حمل پر پابندی عائد کر دی ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے دیگر صوبوں خصوصاً سندھ میں گندم کا ایک مصنوعی بحران پیدا ہو گیا ہے اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔