وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف ’کم شدت کی جنگ‘ لڑ رہا ہے، اور نئی دہلی مئی میں ہونے والی چار روزہ جھڑپ میں شکست کے بعد ’بدلہ لینے‘ کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے یہ بات العربیہ انگلش کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں کہی، جو بدھ کی شب نشر ہوا۔ ان کے بیانات حالیہ سرحدی جھڑپوں، دہشت گردی کے واقعات اور طالبان حکام کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد کابل حکومت پر بڑھتی تنقید کا تسلسل ہیں۔
انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اس بات کے کیا ثبوت رکھتے ہیں کہ بھارت دوحہ اور ترکی میں طالبان نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کے دوران “پتلی تماشا” چلا رہا تھا، تو خواجہ آصف نے جواب دیا کہ ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں، اور جب انہیں پیش کرنے کا وقت آئے گا تو ضرور پیش کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپیں ہو رہی تھیں، اسی دوران افغان وزیرِ خارجہ نئی دہلی کے دورے پر تھے۔ خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ افغانستان دراصل بھارت کا پراکسی بن چکا ہے اور بھارت افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کم شدت کی جنگ لڑ رہا ہے، تاکہ پچھلی شکست کا بدلہ لیا جا سکے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مئی میں ہونے والی جھڑپ کے دوران بھارت کے سات طیارے مار گرائے گئے تھے۔ ان کے مطابق، امریکی صدر نے بھی متعدد مواقع پر اس واقعے کا حوالہ دیا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جھڑپ میں سات “خوبصورت” طیارے تباہ ہوئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق، مئی میں دونوں ممالک کے درمیان تصادم اُس وقت شروع ہوا جب مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر حملے کے بعد بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے الزام پاکستان پر عائد کیا۔ اس کے بعد نئی دہلی نے پنجاب اور آزاد کشمیر میں فضائی حملے کیے، جو چار دن تک جاری رہے۔ 10 مئی کو امریکی مداخلت کے بعد جنگ بندی عمل میں آئی۔ پاکستان نے پہلے پانچ اور بعد میں سات بھارتی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا۔
انٹرویو میں میزبان کے اس تبصرے پر کہ بھارت کے کسی دوسرے ملک کو استعمال کرکے بدلہ لینے کی بات ایک جرات مندانہ دعویٰ ہے، خواجہ آصف نے کہا کہ “اگر آپ چاہیں تو میں یہ بیان دوبارہ دہرا دیتا ہوں، مجھے اس پر کوئی جھجک نہیں۔”
انہوں نے کہا کہ کابل اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے موجود رہے ہیں، چاہے حکومتیں بدلتی رہیں، لیکن یہ تعلقات ہمیشہ پاکستان کے نقصان میں ثابت ہوئے ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان کی مشرقی یا مغربی سرحد، یعنی بھارت یا افغانستان کی جانب سے کوئی خلاف ورزی ہوئی، تو پاکستان بھرپور جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان نے بھارت کا مہرہ بننے کا انتخاب کیا ہے، جو خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ مکمل جنگ کے امکان پر قیاس آرائی نہیں کریں گے، تاہم سرحدی کشیدگی میں اضافے کا خطرہ موجود ہے۔ اگر پاکستان کو سرحد پار مداخلت کے شواہد ملے تو جوابی کارروائی کی جائے گی، “ہم اندر جا کر حساب برابر کریں گے۔”
انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان غزہ میں بین الاقوامی امن فورس کا حصہ بننے پر غور کر رہا ہے، تو وزیرِ دفاع نے کہا کہ پاکستان اگر ضرورت پیش آئی تو امن اور استحکام کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کو تیار ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر کوئٹہ کے قریب ہائپرسونک میزائل تجربے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض قیاس آرائیاں ہیں۔