بین الاقوامی مارکیٹ میں معمولی اتار چڑھاؤ کے نتیجے میں ملک میں پیٹرول کے علاوہ دیگر تمام پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئندہ 15 روز کے لیے اضافہ متوقع ہے، اور یہ اضافہ زیادہ سے زیادہ 9 روپے 50 پیسے فی لیٹر تک ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق موجودہ ٹیکس شرحوں کی بنیاد پر ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی ایکس ڈپو قیمت میں تقریباً 9 روپے 50 پیسے فی لیٹر یعنی 3.4 فیصد اضافہ متوقع ہے، جبکہ پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 2 روپے فی لیٹر یا 0.7 فیصد کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق یکم جون سے اب تک پیٹرول کی نیٹ قیمت میں تقریباً 12 روپے 50 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 23 روپے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔
اسی طرح مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل (ایل ڈی او) کی ایکس ڈپو قیمتوں میں بھی بالترتیب 8 روپے 80 پیسے (4.8 فیصد) اور 7 روپے 15 پیسے (4.4 فیصد) اضافے کا امکان ہے۔ فی الحال مٹی کے تیل کی قیمت 185 روپے فی لیٹر اور ایل ڈی او 164 روپے فی لیٹر ہے۔
ایکس ڈپو پیٹرول کی موجودہ قیمت 265 روپے 45 پیسے فی لیٹر ہے، جو کم ہو کر 263 روپے 50 پیسے ہونے کا امکان ہے۔ پیٹرول کا استعمال زیادہ تر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت کا براہِ راست اثر متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے بجٹ پر پڑتا ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی موجودہ ایکس ڈپو قیمت 278 روپے 44 پیسے فی لیٹر ہے، جو 15 نومبر کو بڑھ کر 288 روپے فی لیٹر سے اوپر جا سکتی ہے۔ چونکہ ٹرانسپورٹ سیکٹر کی زیادہ تر سرگرمیاں اسی ایندھن پر انحصار کرتی ہیں، لہٰذا ڈیزل کی قیمت میں اضافہ مہنگائی کا سبب بنتا ہے۔ یہ ایندھن ٹرکوں، بسوں، ٹریکٹروں، ٹیوب ویلز، تھریشرز اور دیگر زرعی مشینری میں استعمال ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں سبزیوں اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹرانسپورٹر پہلے ہی مئی سے اگست کے دوران 27 روپے فی لیٹر اضافہ ہونے پر کرایوں میں اضافہ کر چکے ہیں لیکن بعد ازاں 13 روپے فی لیٹر کمی کے باوجود کرایوں میں کمی نہیں کی گئی۔
پیٹرول اور ڈیزل حکومت کے لیے بڑی آمدنی کا ذریعہ ہیں، جن کی اوسط ماہانہ فروخت تقریباً 7 سے 8 لاکھ ٹن ریکارڈ کی جاتی ہے۔