پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے بدھ کے روز پارٹی کی 40 رکنی سیاسی کمیٹی کو ختم کرتے ہوئے اس کی جگہ کم تعداد پر مشتمل ایک نئی کمیٹی بنانے کی ہدایت جاری کی ہے۔ اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو زیادہ مؤثر، سادہ اور تیز رفتار فیصلوں کے قابل بنانا چاہتے ہیں تاکہ اہم سیاسی معاملات زیادہ منظم انداز میں آگے بڑھ سکیں۔
رپورٹس کے مطابق پارٹی کے انفارمیشن سیکرٹری شیخ وقاص اکرم نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نئی کمیٹی میں صوبائی صدور، اپوزیشن لیڈرز اور چند دیگر اہم رہنما شامل کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق نئی کمیٹی کا ڈھانچہ اس طرح ترتیب دیا جا رہا ہے کہ اس میں پارٹی کی اعلیٰ ترین نمائندگی برقرار رہے، اور مختلف صوبائی یونٹس کے ساتھ ساتھ پارلیمانی اپوزیشن کی سطح پر بھی مضبوط رابطہ قائم رہے۔
شیخ وقاص اکرم نے مزید وضاحت کی کہ غالب امکان ہے کہ اس نئی کمیٹی میں وہی افراد شامل ہوں گے جو پارٹی امور میں فعال ہیں، سیاسی صورتحال کا گہرا ادراک رکھتے ہیں اور فیصلوں کے عمل میں براہ راست کردار ادا کر سکتے ہیں، تاکہ تنظیمی فیصلہ سازی مزید مؤثر ہو سکے۔
عمران خان نے قومی اسمبلی میں شاہد خٹک کو پارلیمانی لیڈر بنانے کی ہدایت بھی جاری کی ہے، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پارٹی اس فیصلے پر فوری عمل نہ کرے، بالکل اسی طرح جیسے ماضی میں زرتاج گل کی نامزدگی کے باوجود اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہو سکا تھا۔ اندرونی اندازوں کے مطابق پارٹی کے موجودہ حالات کے باعث یہ نامزدگی بھی محض علامتی ہدایت ہی رہ سکتی ہے۔
علاوہ ازیں عمران خان نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو انصاف لائرز فورم کی ازسرنو تنظیم کا اختیار بھی دے دیا ہے، جس کا مقصد صوبے میں تنظیمی و قانونی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے تاکہ فورم صوبائی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں کام کر سکے۔