لکھنؤ: شدید دھند کے باعث بھارت اور جنوبی افریقا کے درمیان کھیلا جانے والا چوتھا ٹی ٹوئنٹی میچ بغیر ایک بھی گیند پھینکے ختم کر دیا گیا، جس کے بعد مایوس شائقین نے بھارتی کرکٹ بورڈ سے اپنی رقم واپس کرنے کا بھرپور مطالبہ کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق میچ آفیشلز نے ٹاس سے قبل چھ مرتبہ گراؤنڈ کا معائنہ کیا، تاہم حدِ نگاہ انتہائی کم ہونے کے باعث کھیل ممکن نہ تھا اور امپائرز نے طویل انتظار کے بعد آخرکار میچ ختم کرنے کا فیصلہ جاری کیا۔
میچ کے خاتمے پر شائقین نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مخصوص امیدوں کے ساتھ میدان میں آئے تھے اور اب وہ اپنی ادائی گئی رقم کی واپسی چاہتے ہیں۔ ایک شائق نے شکوہ کیا کہ وہ گندم کی تین بوریاں بیچ کر میچ دیکھنے آیا تھا، اس لیے اس کا مالی نقصان پورا کیا جانا چاہیے۔ ایک اور شہری نے کہا کہ اگر میچ دن کے وقت رکھا جاتا تو صورتحال مختلف ہو سکتی تھی، اب صرف رقم کی واپسی سے بات پوری نہیں ہوتی۔
دوسری جانب بھارتی میڈیا نے میچ نہ ہونے کی وجہ اسموگ کو قرار دیتے ہوئے حکومت اور بورڈ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس موسم میں ٹی ٹوئنٹی میچز کی شیڈولنگ درست نہیں تھی، کھلاڑی ماسک پہنے ہوئے تھے جبکہ ایئر کوالٹی انڈیکس 400 تک پہنچ چکا تھا۔
اس کے علاوہ سوشل میڈیا صارفین نے بھی لکھنؤ کے وینیو کے انتخاب اور شدید اسموگ کے باوجود میچ کے انعقاد کی کوشش پر بھارتی بورڈ کے فیصلے کو ہدفِ تنقید بنایا۔