بنگلادیش کے الیکشن کمشنر بریگیڈئیر (ر) ابوالفضل محمد ثنا اللہ نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ ملک میں عام پارلیمانی انتخابات کے لیے سکیورٹی کے جامع انتظامات قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت سے مکمل کر لیے گئے ہیں اور اس انتخابی عمل میں ملک بھر سے 50 سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بنگلادیش میں اس وقت پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ساتھ آئینی اور قانونی اصلاحات سے متعلق ایک ریفرنڈم بھی منعقد کیا جا رہا ہے، جس کے باعث انتخابی عمل کو مزید اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔
ابوالفضل محمد ثنا اللہ کے مطابق نئی ووٹر لسٹ میں 45 لاکھ نئے ووٹرز کا اندراج کیا گیا ہے، جبکہ پرانی ووٹر لسٹ میں شامل تقریباً 20 لاکھ افراد وفات پا چکے تھے، جن کے نام نکال دیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں مجموعی طور پر 60 سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے 50 جماعتیں ان انتخابات میں عملی طور پر شریک ہیں۔
الیکشن کمشنر نے مزید کہا کہ حالیہ عرصے میں 10 نئی سیاسی جماعتیں بھی ابھر کر سامنے آئی ہیں، جو اس انتخابی عمل میں حصہ لے رہی ہیں، جس سے سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ امیدوار کو اپنے حلقے میں فی ووٹر 10 ٹکا کے حساب سے انتخابی اخراجات کی اجازت ہے، مثال کے طور پر اگر کسی حلقے میں 3 لاکھ ووٹرز ہوں تو امیدوار زیادہ سے زیادہ 30 لاکھ ٹکا تک خرچ کر سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ڈھائی لاکھ سے کم ووٹرز والے حلقوں میں بھی انتخابی اخراجات کی بالائی حد 25 لاکھ ٹکا مقرر کی گئی ہے، اور اس حد سے تجاوز کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ الیکشن کمشنر کے مطابق تمام امیدواروں کو مقررہ حد کے اندر رہتے ہوئے شفاف اور منصفانہ انتخابی مہم چلانا ہوگی تاکہ انتخابی عمل کی ساکھ برقرار رہے۔