عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کو راولپنڈی کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔
شیخ رشید کے وکیل ایڈووکیٹ سردار عبدالرازق خان نے دوران گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شیخ رشید کو نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں واقع ان کے گھر سے سول کپڑوں میں ملبوس لوگ گرفتار کرکے لے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے شیخ رشید کے بھتیجے شیخ شاکر اور ملازم عمران کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے اور انہیں گرفتاری کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
شیخ رشید کے بھتیجے اور سابق رکن قومی اسمبلی شیخ راشد شفیق نے اس حوالے سے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ابھی مغرب کی نماز کے بعد شیخ رشید احمد کو راولپنڈی میں واقع بحریہ ٹاؤن فیز 3 سے پنجاب پولیس نے گرفتار کیا ہے اور گرفتار کرنے کے بعد یہ نہیں پتا کہ وہ اس وقت کہاں پر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شیخ رشید کے ساتھ ساتھ میرے بڑے بھائی شیخ شاکر اور ہمارے ایک ملازم شیخ عمران کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر لے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس نے لاہور ہائی کورٹ میں لکھ کر دیا ہوا ہے کہ شیخ رشید ہمیں کسی کیس میں مطلوب نہیں ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ میں اسلام آباد پولیس نے لکھ کر دیا ہوا ہے کہ وہ ہمیں کسی کیس میں مطلوب نہیں ہیں اور پہلے دن سے 9 مئی کے واقعات کی مذمت کی ہے۔
شیخ راشد شفیق نے کہا کہ حالات و واقعات کے تناظر میں اعلیٰ اداروں، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے اپیل کرتا ہوں کہ ہمیں بتایا جائے کہ یہ تینوں گرفتار افراد کہاں پر ہیں، اگر وہ کسی مقدمے میں مطلوب ہیں تو انہیں تھانے اور عدالت میں پیش کیا جائے، ہم قانونی جنگ لڑیں گے اور اپنے حق کے لیے کھڑے ہیں۔