چین کے سب سے بڑے معاشی مرکز شنگھائی میں سمندری طوفان “کو مے” کے ساحل سے ٹکرانے کے بعد ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے۔
طوفان کے باعث شہر میں تیز ہواؤں اور شدید بارشوں نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا، جب کہ عوام کی سلامتی کے پیش نظر ساحلی علاقوں سے دو لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔
شہر بھر میں ریلوے سروس معطل کر دی گئی ہے اور سیکڑوں پروازیں بھی منسوخ ہو چکی ہیں، جس سے سفری نظام بری طرح درہم برہم ہو گیا ہے۔ طوفان کے بعد بجلی کی فراہمی میں بھی تعطل دیکھنے میں آیا، جبکہ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔
ادھر بیجنگ اور اس کے مضافات میں ہونے والی طوفانی بارشوں کے نتیجے میں مختلف حادثات میں اب تک 34 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جب کہ امدادی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔
رپورٹس کے مطابق طوفان “کو مے” کو 1949 کے بعد شنگھائی سے ٹکرانے والا سب سے طاقتور اور خطرناک طوفان قرار دیا جا رہا ہے، جس نے وسیع پیمانے پر نقل مکانی اور ایمرجنسی اقدامات کو ناگزیر بنا دیا ہے۔