امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لگ بھگ 69 ممالک سے امریکہ درآمد کی جانے والی اشیا پر 10 فیصد سے لے کر 41 فیصد تک کے نئے ٹیرف کے اطلاق کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت پاکستان پر پہلے سے عائد کردہ ٹیرف (یعنی ٹیکس) کی شرح 29 فیصد سے کم کر کے 19 فیصد کر دی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ نئے محصولات کا مقصد غیر منصفانہ تجارتی عدم توازن کو درست کرنا اور امریکہ کی اقتصادی اور سلامتی کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ اس ضمن میں وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والی فہرست کے مطابق بنگلہ دیش پر 20 جبکہ انڈیا پر 25 فیصد ٹیرف کا نفاذ کیا گیا ہے تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انڈیا کے ساتھ تاحال بات چیت کا عمل جاری ہے۔
اس سے قبل پاکستان کی وزارتِ خزانہ نے بتایا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین تجارتی معاہدہ کامیابی سے طے پا گیا ہے۔ اس حوالے سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق اس معاہدے کا مقصد دو طرفہ تجارت کا فروغ ، منڈیوں تک رسائی کو بڑھانا، سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ ٹیرف اور تجارت سے متعلق معاملات کو فائنل شکل دینے کے لیے وزیر خارجہ إسحاق ڈار اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے حال ہی میں امریکہ کے دورے کیے تھے۔
وزارتِ خزانہ کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں باہمی ٹیرف خاص طور پر امریکہ میں پاکستانی مصنوعات پر لگنے والے ٹیرف میں کمی آئے گی۔ یاد رہے کہ اس سال اپریل کے مہینے میں امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے دنیا کے مختلف ملکوں کی مصنوعات کی امریکہ برآمد پر ٹیرف لگایا گیا تھا جس کے تحت پاکستان کی مصنوعات پر بھی 29 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم دیگر ممالک کی طرح اس پر عملدرآمد کو بعدازاں معطل کر دیا گیا تھا اور اب بات چیت کے بعد اس کی شرح 19 فیصد طے ہوئی ہے۔
اب ماہرین سے اس بات پر رائے لی جا رہی ہے کہ 19 فیصد ٹیرف کے عملی اثرات کیا ہوں گے اور پاکستان کی برآمدات پر اس کا کیا ممکنہ اثر پڑے گا۔ اس سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ امریکہ پاکستان کا کتنا اہم تجارتی شراکت دار ہے اور کن اقسام کی اشیاء پاکستان سے امریکہ کو برآمد کی جاتی ہیں۔