پنجاب میں صرف تین دن کے دوران گندم کی قیمت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ موقر قومی اخبار کے مطابق گندم کی قیمتوں میں 900 روپے فی من تک کمی ریکارڈ کی گئی اور گزشتہ روز گوجرانوالہ ڈویژن کی اوپن مارکیٹ میں ریٹ گر کر 3100 روپے فی من تک آ گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے عندیہ دیا ہے کہ فلور ملز کو گندم 3000 روپے فی من کے حساب سے فراہم کی جائے گی۔
دوسری طرف بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران ملک بھر میں سیلابی صورتحال کے تناظر میں گندم، آٹے اور چاول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
فلور ملز مالکان، غلہ منڈی کے تاجروں اور دکانداروں کا کہنا ہے کہ اجناس کی رسد متاثر ہونے سے قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم ماہرین کا مؤقف ہے کہ یہ اضافہ مصنوعی ہے۔ ان کے مطابق آٹے کی قیمت بڑھنے کی اصل وجہ سیلاب نہیں بلکہ ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری ہے۔
گزشتہ دو ہفتوں کے دوران آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت جو پہلے 1450 روپے تھی، بعض علاقوں میں بڑھ کر 2500 روپے تک پہنچ گئی۔
چاول کے حوالے سے آڑھتیوں نے بتایا کہ حالیہ سیلاب سے دھان کی فصل کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کی وجہ سے 25 کلو چاول کے تھیلے کی قیمت میں اوسطاً ایک ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ اس حساب سے چاول کی فی کلو قیمت 40 روپے تک بڑھ گئی ہے۔