وزیراعظم نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں ایک ماہ کے لیے بجلی کے بلوں کی مکمل معافی یا ریلیف دینے کے لیے فوری طور پر آئی ایم ایف سے بات کرے تاکہ متاثرہ عوام کو جلد از جلد سہولت فراہم کی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق یہ ریلیف ملک بھر کے تمام سیلاب متاثرہ شہروں اور دیہات میں یکساں طور پر دیا جائے گا۔ وفاقی حکومت نے متاثرین کو بجلی کے بلوں میں بڑا ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے اور مختلف تجاویز پر غور جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کے بلوں پر جنرل سیلز ٹیکس، ایف سی سرچارج اور فکس چارجز ختم کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے۔ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر جی ایس ٹی اور ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے، انکم ٹیکس، اضافی ٹیکس اور ریٹیلر سیلز ٹیکس کے خاتمے پر بھی غور جاری ہے۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کے مطابق سیلاب متاثرین کے بجلی بلوں پر ٹیکسز ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں کے ٹیکس فوری طور پر معاف کر دیے جائیں گے۔ بجلی بلوں میں ریلیف وفاقی حکومت دے گی جبکہ لینڈ ریونیو صوبائی حکومت کے ذمے ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں اضافی بلوں کا بھی نوٹس لیا جائے گا، یہ وہ بل ہیں جو پہلے ہی پرنٹ ہو چکے تھے۔
اس کے ساتھ ہی وفاقی حکومت نے فصلوں اور جانوروں کے نقصان کے ازالے کے لیے کسان پیکیج دینے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ رانا تنویر حسین کے مطابق سروے مکمل ہوتے ہی کسان پیکیج کا اعلان کر دیا جائے گا۔