وزیراعظم شہباز شریف اور امیر قطر شیخ تمیم بن حماد کے درمیان ہونے والی ملاقات میں خطے کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر قریبی اور مسلسل روابط برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
اس ملاقات کے دوران وزیراعظم نے دوحہ کے رہائشی علاقے پر حالیہ اسرائیلی حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے حالیہ دورۂ قطر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ نہ صرف قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین کی بھی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ہر مشکل وقت میں قطر کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان اور قطر کے تعلقات کو تاریخی اور دیرپا قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں یہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی جارحیت کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے، اور موجودہ حالات میں امت مسلمہ کے اتحاد کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے عرب اسلامی ممالک کے ہنگامی سربراہی اجلاس کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس کوشش کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان، مشرق وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں قطر کی اس تجویز کی حمایت کرتا ہے کہ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے تاکہ عالمی سطح پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف ٹھوس اقدامات کیے جا سکیں۔
امیر قطر نے وزیراعظم شہباز شریف کی عرب اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ 12 ستمبر کو دوحہ آ کر قطر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا پاکستان کی قیادت کی مثبت سوچ اور بھائی چارے کی عکاسی کرتا ہے۔
ملاقات میں وزیر دفاع خواجہ آصف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور مشیر طارق فاطمی بھی شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے ہمارے برادر ملک قطر کی خودمختاری اور سلامتی کی خلاف ورزی کی ہے، اور اس کے جنگی جرائم پر اسے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور غزہ میں انسانیت سسک رہی ہے، اس صورتحال میں اسرائیل کی اقوام متحدہ کی رکنیت معطل کرنے کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ غزہ کی شہری آبادی کو فوری اور ہنگامی بنیادوں پر امداد فراہم کی جائے۔
مزید برآں، وزیراعظم شہباز شریف نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، مصر کے صدر عبدالفتح السیسی، شاہ اردن عبداللہ دوم بن الحسین اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی علیحدہ ملاقاتیں کیں جن میں اسرائیلی حملوں، فلسطینی عوام کی حالت اور دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔