انتظامی مسائل اور طیاروں میں فنی خرابیوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 13 پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ 44 پروازیں مختلف اوقات میں تاخیر کا شکار رہیں۔ فلائٹ شیڈول کے مطابق قومی ایئر لائن کا ایک اے ٹی آر طیارہ فنی خرابی کا شکار ہوا جس کے باعث کراچی سے گوادر، تربت اور سکھر جانے والی پروازیں منسوخ کرنا پڑیں۔
اسی طرح کراچی سے دبئی جانے والی قومی ایئر کی دو پروازیں پی کے 213 اور پی کے 214 بھی آپریٹ نہ ہو سکیں، جبکہ لاہور سے دبئی اور اسلام آباد سے ابوظہبی جانے والی دو مزید پروازیں بھی منسوخ کر دی گئیں۔ فلائٹ شیڈول کے مطابق پشاور سے دبئی اور ابوظہبی کی تین پروازیں بھی آپریشنل نہ ہو سکیں۔
دوسری جانب تاخیر کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ کراچی سے چار، اسلام آباد سے سولہ پروازیں ایک سے بارہ گھنٹے تک لیٹ ہوئیں۔ اسلام آباد سے کوالالمپور جانے والی قومی ایئر کی پرواز پی کے 894 بارہ گھنٹے کی طویل تاخیر کا شکار ہوئی۔ اسی طرح پشاور سے شارجہ، دبئی، ریاض اور جدہ جانے والی چار پروازوں میں ایک سے آٹھ گھنٹے تک تاخیر رہی۔
فلائٹ شیڈول کے مطابق اسلام آباد سے اسکردو کی چار پروازوں کو بھی تین سے پانچ گھنٹے انتظار کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ کراچی کی چھ اور لاہور کی چودہ پروازیں ایک سے چھ گھنٹے کی تاخیر کے ساتھ چل سکیں۔ اس کے علاوہ جدہ سے کراچی آنے والی نجی ایئر لائن کی پرواز ای آر 811 بھی دس گھنٹے کی تاخیر کے بعد آپریٹ ہوئی۔