الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر سے متعلق دائر درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ صوبے میں بلدیاتی انتخابات دسمبر کے آخری ہفتے میں منعقد کیے جائیں گے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن 2022 کے قانون کے تحت پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرے گا۔ اس سلسلے میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ، اور اراکین نثار درانی، شاہ محمد جتوئی اور بابر حسن بھروانہ نے مشترکہ طور پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے صوبے میں حلقہ بندیوں کا عمل فوری طور پر شروع کرنے کی ہدایت دے دی۔
سماعت کے دوران کمیشن کو بتایا گیا کہ پنجاب کے بلدیاتی قوانین میں اب تک پانچ مرتبہ ترامیم کی جا چکی ہیں جبکہ چھٹی ترمیم بھی زیر غور ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن نے قرار دیا کہ 2022 کے قانون کے مطابق انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔
فیصلے میں کمیشن نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پنجاب حکومت کا رویہ تاخیری نوعیت کا ہے جو آئینی تقاضوں کے خلاف ہے۔ اس کے باوجود انتخابات موجودہ قانون کے تحت ہی کرائے جائیں گے تاکہ عوامی نمائندگی کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل جماعت اسلامی کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کروانے پر ایڈووکیٹ جنرل اور چیف سیکرٹری پنجاب کو طلب کیا تھا۔