روس کے دارالحکومت ماسکو میں ایک کار میں ہونے والے مہلک بم دھماکے کے نتیجے میں روسی فوج کے ایک اعلیٰ جنرل زندگی سے محروم ہوگئے، جس کے بعد واقعے کی سنگین نوعیت کے پیش نظر تحقیقات کا دائرہ فوری طور پر وسیع کر دیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی تحقیقاتی کمیٹی نے تصدیق کی ہے کہ دھماکے میں ہلاک ہونے والے جنرل فانِل سارواروف روسی مسلح افواج کے آپریشنل ٹریننگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے تھے، اور ان کا شمار فوج کے نہایت سینئر اور تجربہ کار افسران میں کیا جاتا تھا۔
روسی حکام کے مطابق ابتدائی معلومات سے یہ اشارہ ملا ہے کہ کار میں نصب کیا گیا دھماکا خیز مواد مبینہ طور پر یوکرین کی اسپیشل سروسز کی جانب سے تیار اور نصب کیا گیا تھا، تاہم اس سلسلے میں شواہد کی مزید جانچ پڑتال جاری ہے تاکہ حملے کے تمام پہلوؤں کو پوری طرح سامنے لایا جا سکے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دھماکے کے محرکات، منصوبہ بندی اور ملوث عناصر سے متعلق تمام حقائق جاننے کے لیے روسی ادارے تیزی سے تحقیقات کر رہے ہیں، اور اس حوالے سے مزید پیش رفت جلد متوقع ہے۔