وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گزشتہ روز کراچی میں جماعت اسلامی کے احتجاج پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جن لوگوں کو قابض ٹولہ کہا جا رہا ہے وہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آئے ہیں، اور شہر کی بڑی شاہراہوں پر دھرنوں اور احتجاج کے خلاف اب سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ انہیں اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ سانحۂ گل پلازہ کو غیر ضروری طور پر تشہیر کا موضوع بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اعتراض ان عناصر پر ہے جو اس سانحے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جبکہ سندھ حکومت ابتدا ہی سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سانحۂ گل پلازہ کے بعد سندھ حکومت نے متاثرہ افراد کے لواحقین کے لیے فی کس ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے 26 گھروں میں جا کر متاثرین کو امدادی چیک فراہم کیے، تاہم اس عمل کے دوران میڈیا کو ساتھ لے جانا مناسب نہیں سمجھا گیا۔
جماعت اسلامی کے گزشتہ روز کے دھرنے اور حافظ نعیم الرحمان کی جانب سے سندھ حکومت پر کی گئی تنقید سے متعلق سوال کے جواب میں وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ جنہیں قابض ٹولہ کہا جا رہا ہے، وہ عوامی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار میں آئے ہیں، اور عوام نے پاکستان پیپلز پارٹی پر اعتماد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمان کو چاہیے کہ وہ صوبائی اسمبلی میں آئیں یا پھر اپنی نشست خالی کریں۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز تین سے چار گھنٹے تک شارع فیصل بلاک رہی، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بندش سے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اسی لیے آئندہ شہر کی بڑی شاہراہوں پر دھرنوں اور احتجاج کے خلاف سختی کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے بھی حافظ نعیم الرحمان کا دھرنا دینے سے متعلق بیان سنا ہے، اور چونکہ حافظ نعیم الرحمان کو سندھ اسمبلی کی نشست ملی ہے، اس لیے انہیں اپنے حلقے کے عوام کا خیال رکھنا چاہیے، یا پھر نشست چھوڑ دینی چاہیے تاکہ حلقے کے عوام نمائندگی سے محروم نہ ہوں۔