عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر شیخ رشید نے چیف جسٹس پاکستان سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کو دی جانے والی طویل سزاؤں کے خلاف اپیلوں کو سنا جائے تاکہ انصاف کا تقاضا پورا ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی افراد کو 40، 40 سال کی سزائیں سنائی گئی ہیں، جس کے باعث متاثرہ خاندان شدید ذہنی اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔
راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ وہ چیف جسٹس سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتے ہیں کہ عوام کی اپیلوں پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بھتیجے کو بھی 40 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے اور اس وقت بہت سے گھروں میں غم اور ماتم کا سماں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو واقعی قصور وار ہیں انہیں سزا ملنی چاہیے، تاہم جو بے قصور ہیں انہیں انصاف کے تقاضوں کے مطابق رہائی ملنی چاہیے۔
شیخ رشید نے کہا کہ شبِ برات کے موقع پر ان کی دعا ہے کہ حکومت کاشتکاروں کے مسائل پر فوری توجہ دے، کیونکہ کسان شدید مشکلات سے دوچار ہیں اور ان کی معاشی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکار رل چکے ہیں اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں 8 ہزار کے قریب ریڑھیاں اور کھوکے تباہ ہو چکے ہیں جس کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں اور کئی علاقوں میں سناٹا چھایا ہوا ہے۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ انہوں نے راولپنڈی میں 60 تعلیمی ادارے قائم کیے تھے، مگر موجودہ مہنگائی کے باعث تعلیمی ادارے بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ مہنگائی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ کالجز اور جامعات میں طلبہ کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے، جبکہ اساتذہ کی تعداد زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی دباؤ نے عوام کی زندگی مشکل بنا دی ہے اور فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔