مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عراقی سمندری حدود میں دو آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس سے توانائی کی عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق عراقی سمندری حدود کے قریب دو بین الاقوامی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں اور سرمایہ کاروں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
عالمی منڈی میں برطانوی خام تیل کی قیمت میں تقریباً 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد اس کی قیمت بڑھ کر 100.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اسی طرح امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا اور 8.57 فیصد اضافے کے بعد اس کی قیمت 94.73 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
ابتدائی ایشیائی تجارت کے دوران امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں بھی تیزی دیکھی گئی اور یہ تقریباً 7.5 فیصد اضافے کے ساتھ 93.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر خلیج اور آبنائے ہرمز کے قریب کشیدگی برقرار رہی تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ اور اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے جس سے عالمی توانائی منڈی متاثر ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عالمی توانائی ایجنسی نے 400 ملین بیرل تیل جاری کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم اس اقدام کے باوجود عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا۔