ایران نے پاکستان کے لیے تیل لے کر آنے والے تین بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، جس سے توانائی سپلائی کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ تینوں بحری جہاز کویت سے تیل لے کر پاکستان پہنچیں گے، جس سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے کرپٹو کونسل بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا جاری بحران صرف تیل تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے عالمی سپلائی چین کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اس بحران کا ابتدائی مرحلہ ہے، جبکہ اصل معاشی اثرات اور سپلائی چین کے مسائل آئندہ سامنے آ سکتے ہیں۔