وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی ذہنی کیفیت کو دیکھتے ہوئے پاکستانی قیادت کو تیار رہنا ہوگا۔ نیشنل ایکشن پلان کی سیاسی سائیڈ پر صورتحال حوصلہ افزا نہ تھی لیکن پی ٹی آئی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی قیادت کو مشاورت کے لیے دعوت دی ہے، موجودہ صورتحال میں قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے جس کے لیے پارلیمانی رہنماؤں کو مشاورت کی دعوت دی، مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی قیادت سے بذریعہ ٹیلی فون رابطہ کیا، سیاسی قیادت کا رویہ منفی نہیں تھا مگر ہچکچاہٹ تھی، سمجھ سکتا ہوں ہچکچاہٹ کیوں تھی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ معذرت کے ساتھ نیشنل ایکشن پلان کی سیاسی سائیڈ پر صورتحال حوصلہ افزا نہ تھی، سابقہ حکومت میں وہ کمٹمنٹ نہیں تھی لیکن پی ٹی آئی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام مشکل میں زندگی بسر کر رہے ہیں، نامساعد حالات کے باعث کشمیری جدوجہد آزادی کی تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں، کشمیریوں کا نعرہ ہے لے کر رہیں گے آزادی توڑ کر رہیں گے زنجیریں، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کو مسلسل پامال کیا جارہا ہے لیکن دنیا سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموش ہے۔
وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے، پلوامہ واقعات کے بعد بھارت نے جارحانہ رویہ اختیار کیا اور جب جارحیت کے بادل منڈلا رہے تھے ہم نے سفارتی سطح پر اس معاملے کو اٹھایا جب کہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی ذہنی کیفیت کو دیکھتے ہوئے پاکستانی قیادت کو تیار رہنا ہوگا،