سربراہ پی ایس پی مصطفیٰ کمال نے ایک بار پھر کراچی کی شہری حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی ان ہی وسائل اور اختیارات سے ٹھیک ہوسکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاک سر زمین پارٹی کے چئیرمین سید مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے پاس آج بھی کچرا اٹھانے کےوہی اختیارات ہیں جوہمارے پاس تھے، کراچی ان ہی وسائل اوراختیارات سے ٹھیک ہوسکتا ہے۔
چئیرمین پاک سرزمین پارٹی نے اپنے دور نظامت کو بہترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس وقت بہترین میئر کا ایوارڈ دیا گیا تھا اور اب بین الاقوامی جریدے میں کراچی کو گندا ترین شہر کہا جارہا ہے۔
میڈیا سے گفتگو مصطفیٰ کمال نے ان پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں اچھا کام کرنے والوں کا انجام برا ہے۔
پاک سر زمین پارٹی کے چئیرمین مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ دنیا مطلبی ہے،پاکستان کو کشمیر کے لئے اپنا زور بازو دکھانا ہوگا اگربھارت نے جنگ شروع کردی ہے تو ہمیں بھی جواب دینے کی ضرورت ہے۔
اس سے قبل احتساب عدالت میں ساحل سمندر کی اراضی کی غیر قانونی طور پر الاٹ کرنے کے خلاف ریفرنس کی سماعت ہوئی ،جہاں پاک سر زمین پارٹی کے چئیرمین سید مصطفیٰ کمال اور سابق ڈی جی ایس بی سی اے افتخار قائم خانی سمیت دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔
نیب پراسٹیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ریفرنس میں نامزد دیگر ملزمان کے گھر نوٹس بھیجے جاچکے ہیں، ملزمان کے وکلا نے کہا کہ ریفرنس کے قابل سماعت ہونے پر تضاد کے باعث دلائل کی اجازت دی جائے،جس پر عدالت نے ملزمان کے وکلا کو مہلت دیتے ہوئے سماعت 5 اکتوبر تک ملتوی کردی۔