ایمنسٹی انڈیا نے بھی مقبوضہ کشمیرمیں جاری بھارت کا ظالمانہ چہرہ بے نقاب کردیا۔ کیسے بھارتی حکومت پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت فوجداری نظام، احتساب ، شفافیت اورانسانی حقوق کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
ایمنسٹی انڈیا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں لاک ڈاؤن کو 40 روزسے زائد ہوچکے ہیں۔ انتظامی نظربندی کے قوانین کے تحت ہزاروں سیاسی رہنماؤں ، سماجی کارکنوں اورصحافیوں کو خاموش کروانا جاری ہے جو انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیار کے منافی ہیں۔ مقبوضہ جموں کشمیر کی تاریخ میں پیلک سیفٹی ایکٹ کو کئی بار غیر قانونی طریقے سے استعمال کیا جا چکا ہے۔ ہماری گزشتہ بریفنگ میں ہم نے بتایا تھا کہ کیسے بھارتی حکومت پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت فوجداری نظام، احتساب ، شفافیت اورانسانی حقوق کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
OPINION | "40 days on, the blackout continues, and still no Kashmiri voice has been allowed out of the valley.
Today, as much as I want to switch off, I cannot."
The human cost of the Kashmir blackout is global & it cannot be ignored.#LetKashmirSpeak https://t.co/VAB9eSC7WN
— Amnesty India (@AIIndia) September 13, 2019
ایمنسٹی انڈیا کے مطابق عوامی آرڈر کو خراب کرنے پر فاروق عبداللہ کے خلاف نظربندی کا آرڈر پاس کیا گیا جوکہ پہلے ہی 5 اگست سے اپنے گھرمیں نظربند ہیں، تبدیلی کے وعدے کے باوجود سیاسی رہنماوں کے خلاف قانون کا ظالمانہ استعمال بھارتی حکومت کی بے ایمانی کو صاف ظاہر کرتا ہے۔ مقبوضہ جموں کشمیرکے سابق وزیراعلی فاروق عبداللہ پر پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کرنا بھارتی حکومت کی جانب سے قانون کی کھلی خلاف وزری ہے۔ بھارتی حکومت کا یہ اقدام مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف وارزیوں کی ایک اورمثال ہے۔
A detention order was passed against Abdullah, who has allegedly been under house arrest since Aug 5, for ‘disturbing public order’.
The continuation of draconian laws against political dissidents despite promises of change signals a dishonest intent on part of the Indian Govt.
— Amnesty India (@AIIndia) September 16, 2019