پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور میں یومِ سیاہ کے موقع پر احتجاج کے دوران ان کے 300 کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ سندھ کے ضلع ٹنڈوالہیار میں پارٹی کے ضلعی صدر ایڈووکیٹ نہال لاشاری کو گرفتار کر کے انصاف ہاؤس کو بند کر دیا گیا۔
پی ٹی آئی لاہور کے صدر امتیاز شیخ نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ لاہور میں بھرپور احتجاج کیا جا رہا ہے، اور پارٹی کی تمام ٹکٹ ہولڈرز اور کارکنان کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں احتجاج میں شریک ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور پولیس پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔
پارٹی ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ لاہور سے اب تک 300 کارکنان کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے کچھ پی ٹی آئی ارکان مبینہ چھاپوں کے خوف سے اسمبلی عمارت سے باہر نہیں نکلے۔
دوسری جانب، ٹنڈوالہیار سے پی ٹی آئی کے ضلعی صدر ایڈووکیٹ نہال لاشاری کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن کی گرفتاری کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے۔ ویڈیو میں انہیں پولیس موبائل میں بیٹھا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کی گرفتاری کے بعد انصاف ہاؤس پر تالے لگا دیے گئے، اور کارکنان میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔ تاہم پولیس کی جانب سے اب تک اس گرفتاری پر کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا۔
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق، نہال لاشاری نے 5 اگست کو پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے دو سال مکمل ہونے پر احتجاج کی کال دی تھی، اور انہوں نے تاجروں سے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل کرتے ہوئے ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر جاری کی تھی۔