وفاقی حکومت نے گھریلو صارفین کے لیے آر ایل این جی (ری-گیسفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس) پر مبنی کنکشن متعارف کرانے کا منصوبہ تیار کیا ہے، جس کے تحت ملک کی نئی ہاؤسنگ اسکیموں اور پسماندہ بستیوں کے وہ گھرانے جو اس وقت ایل پی جی سلنڈروں پر انحصار کرتے ہیں، براہِ راست اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
وفاقی کابینہ کی توانائی کمیٹی، جس کی صدارت وزیراعظم شہباز شریف کر رہے تھے، اس پالیسی تبدیلی پر غور کرنے والی تھی جس کے مطابق سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کو گھریلو صارفین کے لیے ایل این جی پر مبنی کنکشن جاری کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ تاہم، یہ اجلاس وزیراعظم کے پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں کے ہنگامی دورے کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا۔ یہ وضاحت وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم و قدرتی وسائل علی پرویز ملک نے دی۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے توانائی کمیٹی کو پیش کی گئی سمری کے مطابق، اس نئی پالیسی کے تحت سوئی گیس کمپنیاں پرانی زیرِ التواء گھریلو درخواستوں کو آر ایل این جی کی فراہمی کے تحت پراسیس کر سکیں گی۔ اس کے نرخ اوگرا (اوئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) طے کرے گی۔
حکام کے مطابق نئے گھریلو اور کمرشل صارفین کو درآمدی گیس فراہم کی جائے گی، جو ایل پی جی کے مقابلے میں 31.25 فیصد سستی ہے۔ اس اقدام سے خاص طور پر ان گھرانوں کو ریلیف ملے گا جو پسماندہ بستیوں اور نئی ہاؤسنگ اسکیموں میں رہتے ہیں اور روزمرہ کے استعمال کے لیے ایل پی جی سلنڈروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔