صوبہ پنجاب میں دریاﺀ راوی میں آنے والے سیلاب نے نہ صرف انسانی آبادیوں کو اپنا نشانہ بنایا ہے بلکہ زراعت کے شعبے کو بھی انتہائی سنگین نقصان پہنچایا ہے۔
تیز رفتار بہاﺅ کی وجہ سے دریائی پانی نے زرعی زمینوں کے وسیع رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں کپاس، گندم اور سبزیوں سمیت متعدد اہم فصلیں بری طرح تباہ ہو گئی ہیں۔ اس قدر بڑے پیمانے پر فصلوں کے ضائع ہونے سے مارکیٹ میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں غیر متوقع اور خطرناک حد تک اضافے کا قوی خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس کی ابتدائی جھلک لاہور کی سنگھ پورہ سبزی منڈی میں دیکھی جا سکتی ہے جہاں کوئی بھی سبزی فی کلو ڈھائی سے تین سو روپے سے کم قیمت پر دستیاب نہیں ہے۔
محکمہ زراعت پنجاب کے سیکرٹری افتخار علی نے اس صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ فصلوں کو یقینی طور پر بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیلاب کے پانی کے مکمل طور پر اتر جانے کے بعد ہی اس بات کا حتمی اندازہ لگایا جا سکے گا کہ زرعی شعبے کو مجموعی طور پر کس قدر معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ان کا عوام کے نام یہ پیغام تھا کہ آئندہ دنوں میں یقینی طور پر کچھ مشکلات درپیش ہوں گی، تاہم ان حالات کا مقابلہ صبر و حوصلے سے کرنا ہو گا۔