اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں گیس کے نئے کنکشنز پر عائد پابندی ختم کرنے اور صارفین کے لیے آر ایل این جی کنکشنز کی منظوری دے دی گئی۔ حکام کے مطابق آر ایل این جی، درآمدی ایل پی جی کے مقابلے میں 30 سے 35 فیصد کم لاگت پر فراہم کی جائے گی۔
کابینہ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ملک میں کلائمیٹ ایمرجنسی اور زرعی ایمرجنسی کے نفاذ کی اصولی منظوری بھی دی اور اعلان کیا کہ جلد چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ اس حوالے سے اجلاس طلب کیا جائے گا۔ اجلاس کو حالیہ سیلابی صورتحال اور نقصانات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ کسانوں کی معاونت اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے اقدامات بھی تجویز کیے گئے۔
وفاقی کابینہ نے شہداء اور افواجِ پاکستان کے خلاف نفرت انگیز مواد کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی تضحیک آمیز مہم کا جواب دینا قومی ذمہ داری ہے۔ کابینہ نے میجر عدنان اسلم شہید کے درجات کی بلندی کے لیے دعا بھی کی۔
وزیراعظم نے دوحا پر اسرائیلی بمباری کی مذمت کرتے ہوئے امیر قطر، شاہی خاندان اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ اجلاس میں ازبکستان، افغانستان اور پاکستان کے درمیان مشترکہ ریلوے فزیبلٹی معاہدے کی توثیق بھی دی گئی، جسے خطے میں تجارت اور رابطہ کاری کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا گیا۔
اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر توانائی علی پرویز ملک نے کہا کہ آر ایل این جی کنکشنز کے اجرا سے عوام کو بڑی سہولت ملے گی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایندھن درآمدی ایل پی جی کے مقابلے میں 35 فیصد سستا ہوگا اور پہلے سے درخواست دہندگان کو بھی آر ایل این جی پر منتقلی کا آپشن دیا جائے گا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اجلاس میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی صورتحال پر بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ان کے مطابق وزیراعظم نے واضح کیا کہ گیس کنکشنز پر پابندی ہٹا کر عوام کو حقیقی سہولت دی گئی ہے۔ کابینہ نے فوری طور پر موسمیاتی ایمرجنسی نافذ کرنے اور 15 دن میں جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی دی۔
طارق فضل چوہدری نے اعتراف کیا کہ ملک میں درختوں اور جنگلات کے تحفظ کو ماضی میں یقینی نہیں بنایا جا سکا، لیکن حکومت موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔