اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف آج سہ ملکی دورے پر روانہ ہو رہے ہیں، جس کے دوران وہ سعودی عرب، برطانیہ اور امریکا کا دورہ کریں گے۔ یہ دورہ نہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر مختلف مسائل پر پاکستان کا مؤقف اجاگر کرنے کا بھی موقع ہوگا۔
وزیراعظم کا پہلا پڑاؤ سعودی عرب ہوگا، جہاں ان کی ملاقات سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے متوقع ہے۔ دونوں رہنما دوطرفہ تعلقات کے فروغ، سرمایہ کاری کے نئے مواقع، اور مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں اقتصادی تعاون بڑھانے اور توانائی کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں پر بھی بات چیت کی جائے گی۔
سعودی عرب کے بعد وزیراعظم برطانیہ جائیں گے، جہاں ان کی ملاقاتیں اعلیٰ برطانوی حکام سے شیڈول کی گئی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں تعلیم، تجارت اور باہمی تعاون جیسے اہم موضوعات پر بات چیت ہوگی تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف 21 ستمبر کو امریکا روانہ ہوں گے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں سالانہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ ان کا جنرل اسمبلی سے خطاب 26 ستمبر کو متوقع ہے، جس میں وہ عالمی برادری کے سامنے پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔ ان کے خطاب میں خاص طور پر مسئلہ کشمیر، فلسطین کی صورتحال، اور موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم موضوعات شامل ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے امکانات بھی موجود ہیں، جس میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی سیکیورٹی سے متعلق امور پر بات چیت متوقع ہے۔
اس کے علاوہ وزیراعظم 22 ستمبر کو فلسطین کے دو ریاستی حل پر ہونے والی ایک اعلیٰ سطحی کانفرنس میں بھی شریک ہوں گے، جہاں مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔