پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کی بھرپور کوششوں کے باوجود بانی پی ٹی آئی تک رسائی نہیں دی جا رہی، حتیٰ کہ جیل سپرنٹنڈنٹ نے عدالت کے واضح حکم کو بھی نظر انداز کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم بانی پی ٹی آئی کے سپاہی ہیں، لیکن ہمیں چالیس چالیس سال کی سزائیں سنائی جا رہی ہیں۔ فیصل آباد اور سرگودھا کی عدالتیں ایک ہی نوعیت کے مقدمات پر الگ الگ فیصلے دے رہی ہیں، جو انصاف کے معیار پر سوالیہ نشان ہے۔
عمر ایوب نے مزید کہا کہ سابق آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں 366 ارب روپے کی بدعنوانی کا ذکر تھا جس پر صدر زرداری نے دستخط کیے، مگر نئے آڈیٹر جنرل نے کہا کہ بدعنوانی 10 کھرب روپے تک پہنچی ہے۔ بعد ازاں وضاحت دی گئی کہ یہ ٹائپنگ کی غلطی تھی۔ “اس سے بڑی ڈکیتی اور کیا ہو سکتی ہے؟” انہوں نے سوال اٹھایا۔
اپنی گفتگو میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ روٹی کی قیمتوں میں اضافہ صرف سیلاب کی وجہ سے نہیں بلکہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق پنجاب حکومت نے یہ تک کہا کہ خیبرپختونخوا کو ایک کلو آٹا بھی نہیں دیا جائے گا۔
عمر ایوب کا کہنا تھا کہ اگر کوئی سیلاب متاثرین کے پاس امداد لے کر جائے تو اس پر ایف آئی آر درج کر دی جاتی ہے۔ الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ امدادی تھیلے پر مریم نواز یا شہباز شریف کی تصویر کیوں نہیں تھی۔