خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن پر ناکام خودکش حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث داعش خراسان کے ایک اہم کمانڈر کو پولیس مقابلے میں ہلاک کردیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق دولتِ اسلامیہ (داعش) خراسان گروپ کا یہ مرکزی کمانڈر کرک کے علاقے عمبری گاؤں میں پولیس کی رات گئے کی جانے والی کارروائی میں مارا گیا۔ پولیس نے خفیہ اطلاع ملنے پر اس ٹھکانے پر چھاپہ مارا، جس کے دوران دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہنے والے اس مقابلے میں داعش خراسان کا اہم کمانڈر نثار حکیم ہلاک ہوگیا، جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں پولیس کے چار اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ ذرائع کے مطابق نثار حکیم مولانا فضل الرحمٰن پر ہونے والے ناکام خودکش حملے کی منصوبہ بندی میں براہِ راست ملوث تھا۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق ضلع کرک طویل عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خصوصی نگرانی میں ہے، کیونکہ اس علاقے کو داعش خراسان کے نیٹ ورک اور بھرتی کے ممکنہ مرکز کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔