وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے منگل کے روز قومی اسمبلی میں آئینی ستائیسویں ترمیم بل، 2025 پیش کیا، واضح رہے کہ یہ بل سینیٹ سے گزشتہ روز منظور ہو چکا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت اسپیکر ایاز صادق کر رہے ہیں۔
سینیٹ نے پیر کے روز 27ویں آئینی ترمیمی بل دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور کیا، جس میں 64 سینیٹرز نے حمایت میں ووٹ دیا، جبکہ اپوزیشن واک آؤٹ کر گئی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل سینیٹ میں پیش کیا تھا تاکہ پاکستان کے آئین میں ضروری ترامیم کی جا سکیں۔
آئینی ترمیم کلاز بہ کلاز ووٹنگ کے ذریعے منظور کی گئی، جس میں سینیٹ کے چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی نے ہر ترمیم شدہ کلاز پڑھ کر منظوری کے لیے پیش کی۔
تمام 59 کلازز ایک ایک کر کے منظور ہو گئیں۔ اجلاس کے دوران جمعیت علما اسلام کے احمد خان اور پاکستان تحریک انصاف کے سیف اللہ ابڑو نے بھی ووٹ دیا۔
وزیر قانون نے اراکین اسمبلی کے سامنے بل کی اہم خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت میں وفاقی اکائیوں کو برابری کی بنیاد پر نمائندگی دی جائے گی، جس کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کو بھی نمائندگی دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی آئینی عدالت آئینی معاملات اور آئین کی تشریح سے متعلق کیسز کی سماعت کرے گی اور اس کی مستقل نشست اسلام آباد میں ہوگی۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صدر جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی سفارشات پر ہائی کورٹ کے جج کو ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ میں منتقل کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے دونوں ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی جوڈیشل کمیشن کے رکن ہوں گے۔
ترمیم کے مطابق صدر وزیر اعظم کی سفارش پر چیف آف آرمی اسٹاف کے ساتھ ساتھ چیف آف ڈیفنس فورسز کو مقرر کرے گا۔ چیف آف ایئر اسٹاف اور چیف آف نیول اسٹاف کی تعیناتی بھی وزیر اعظم کی سفارش پر ہوگی۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 سے ختم کر دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ قومی اسٹریٹجک کمانڈ کے کمانڈر کی تعیناتی آرمی کے کسی رکن سے کی جائے گی اور اس کی تنخواہیں اور مراعات وفاقی حکومت طے کرے گی۔ فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس یا ایڈمرل آف دی فلیٹ کی تعیناتی کے بعد وہ اپنی رینک، مراعات اور یونیفارم زندگی بھر برقرار رکھیں گے اور ان کی ذمہ داریاں وفاقی حکومت طے کرے گی۔
آئینی ترمیم کے مطابق صدر کے خلاف کوئی بھی فوجداری کارروائی ان کی زندگی میں شروع یا جاری نہیں کی جا سکے گی اور گورنر کے خلاف بھی ان کے عہدے کے دوران کارروائی نہیں ہوگی۔
وزیر قانون نے کہا کہ آئینی ترمیم پر مفصل تبادلہ خیال کرنے کی کوشش کی گئی، جس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کی متعلقہ اسٹینڈنگ کمیٹیوں میں ہونے والی گفتگو شامل ہے۔ انہوں نے اتحادی جماعتوں کی حمایت اور رہنمائی کا شکریہ ادا کیا۔
اجلاس کے آغاز میں ایوان نے سینیٹر عرفان صدیقی کے لیے فاتحہ خوانی کی۔