راولپنڈی: کرم ضلع میں سیکورٹی فورسز نے دو الگ الگ کارروائیوں کے دوران بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے فتنۃ الخوارج کے 23 مسلح دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق دونوں کارروائیاں اس وقت کی گئیں جب انٹیلی جنس رپورٹس میں علاقے میں دہشت گرد عناصر کی غیر معمولی نقل و حرکت کی نشاندہی ہوئی، جس کے بعد فورسز نے مربوط اور ٹارگٹڈ آپریشنز کی منصوبہ بندی کرکے علاقے کا گھیراؤ کیا۔
پہلا آپریشن دشمن کے ٹھکانوں کی نشاندہی کے بعد کیا گیا جہاں مسلح خوارج نے سیکورٹی فورسز کی پیش قدمی کے خلاف شدید مزاحمت دکھائی، تاہم فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ دہشت گرد گروہ کی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 12 دہشت گرد مقابلے میں مارے گئے۔
فورسز کے مطابق اس کارروائی کے دوران گروہ کے متعدد خفیہ ٹھکانے، رابطے کے آلات اور اسلحہ بھی قبضے میں لے لیا گیا ۔
اسی روز قریبی علاقے میں ایک اور گروہ کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہوئیں جس کے بعد دوسرا آپریشن کیا گیا۔ اس کارروائی میں بھی فورسز نے منظم گھیراؤ کے تحت علاقے کا محاصرہ کیا اور فائرنگ کے شدید تبادلے کے دوران مزید 11 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
عسکری حکام کے مطابق ان دونوں کارروائیوں کا مقصد نہ صرف فوری خطرات کا خاتمہ تھا بلکہ اس نیٹ ورک کے اس حصے کو توڑنا بھی تھا جو سرحد پار سے حمایت اور ہدایات حاصل کرکے ملک میں کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
آئی ایس پی آر نے جاری بیان میں واضح کیا ہے کہ سیکورٹی فورسز ”عزمِ استحکام“ کے تحت پوری قوت کے ساتھ ایسے کسی بھی گروہ کے خلاف آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں جو بیرونی حمایت کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عوام اور ریاست کے مشترکہ عزم کے سامنے کسی قسم کی غیر ملکی پشت پناہی یا دہشت گرد نیٹ ورک دیر تک خود کو قائم نہیں رکھ سکتا اور فورسز مستقبل میں بھی ایسی کارروائیاں اسی شدت اور یکسوئی سے جاری رکھی جائیں گی تاکہ ملک میں امن و امان کی فضا کو مستقل بنیادوں پر مضبوط بنایا جاسکے۔