رواں مالی سال کے لیے گیس کی اوسط قیمتوں کے بارے میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے بیانات میں واضح تضاد سامنے آیا ہے، جس کے باعث صارفین میں بھی الجھن پیدا ہو گئی ہے۔
گزشتہ روز ترجمان اوگرا نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ سوئی نادرن کے لیے گیس کی اوسط قیمت میں 3 فیصد جبکہ سوئی سدرن کے لیے 8 فیصد کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق کمی کے بعد سوئی نادرن کے لیے گیس کی اوسط قیمت 1804 روپے 8 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو اور سوئی سدرن کے لیے 1549 روپے 41 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو تجویز کی گئی تھی۔
ترجمان اوگرا کا یہ بھی کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی ایڈوائس موصول ہونے کے بعد ہی گیس کی قیمتوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔
تاہم اس کے بعد خبروں میں یہ بات سامنے آئی کہ سوئی نادرن کے لیے گیس کی قیمت 1852 روپے 80 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ سوئی سدرن کے لیے قیمت 1777 روپے 2 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو کرنے کی منظوری جاری کر دی گئی ہے۔
اوگرا کا مؤقف: غلط تاثر دیا گیا، قیمتیں برقرار ہیں
اب تازہ بیان میں ترجمان اوگرا نے کہا ہے کہ گیس قیمتوں کے تعین سے متعلق غلط تاثر پھیلایا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق گیس کی قیمتوں میں کسی قسم کی تبدیلی کی منظوری نہیں دی گئی اور گیس کی قیمتیں پرانے ریٹس پر ہی برقرار ہیں۔