میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ یہ تاثر مکمل طور پر غلط ہے کہ شہر کے 90 فیصد شہری پانی خرید کر استعمال کرنے پر مجبور ہیں، کیونکہ کراچی کے مختلف علاقوں میں اب بھی ایسے مقامات موجود ہیں جہاں 24 گھنٹے لائنوں کے ذریعے پانی کی فراہمی برقرار رہتی ہے۔
ایک نجی نیوز پروگرام “کیپیٹل ٹاک” میں گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ شہر میں موجود وسیع ونڈ کوریڈور کے باوجود ماضی میں کوئلے پر مبنی بجلی گھر لگائے گئے، جس سے نہ صرف ماحول بلکہ شہر کی ضروریات کو بھی نظرانداز کیا گیا۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ کراچی کو درکار پانی کا صرف نصف حصہ وفاق سے فراہم ہوتا ہے، اور جب بھی شہر کے مسائل زیرِ بحث آتے ہیں تو سیاسی سطح پر ہر جماعت اپنی اپنی پوزیشن بنانے میں مصروف ہو جاتی ہے، جس کا براہِ راست نقصان شہری مسائل کے حل کو پہنچتا ہے۔
میئر کا کہنا تھا کہ کراچی کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے حکومتی سطح پر کام جاری ہے، تاہم وفاقی حکومت کو موصول ہونے والے 16 کھرب روپے میں سے ساڑھے 8 کھرب صوبوں کو منتقل ہوتے ہیں جبکہ باقی ساڑھے 8 کھرب قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتے ہیں، جس سے وسائل کی کمی کا سامنا رہتا ہے۔