گڈز ٹرانسپورٹرز اور حکومت کے درمیان طویل مذاکرات آخرکار کامیاب ہونے کے بعد دس روز سے جاری ملک گیر ہڑتال کو فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف ٹرانسپورٹ سیکٹر میں پیدا ہونے والی بے یقینی کو کم کیا ہے بلکہ متاثرہ صنعتوں اور تاجروں نے بھی اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔
گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان کے مطابق حکومت نے ٹرانسپورٹرز کے زیادہ تر مطالبات تسلیم کرلیے ہیں، جس کے بعد رات ہی سے گاڑیوں کی باقاعدہ آمدورفت بحال کردی جائے گی۔ ترجمان نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے جس تحمل اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا، اس کے نتیجے میں مذاکرات خوش اسلوبی سے مکمل ہوئے۔
ٹرانسپورٹرز نے اپنے مطالبات میں ایکٹ میں ترمیم، ڈرائیورز اور مالکان کے خلاف درج ایف آئی آرز کا خاتمہ، بھاری جرمانوں کی واپسی، پورٹس پر ایک ہزار کنٹینرز کی جگہ فراہم کرنے اور پاک افغان سرحد پر پھنسے ٹرک نکالنے جیسی اہم چیزیں شامل کی تھیں۔ اسی کے ساتھ ایل ٹی وی اور ایچ ٹی وی ڈرائیونگ لائسنسز کے لیے ہائی ویز اور موٹرویز پر موبائل یونٹس قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔
گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے صدر ملک شہزاد اعوان نے بتایا کہ وفاقی، پنجاب اور سندھ حکومتوں کی جانب سے مسلسل یقین دہانی کرائی جا رہی تھی کہ ٹرانسپورٹرز کے تمام مطالبات تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق حکومت اور ایسوسی ایشن کے درمیان ایک مفصل ڈرافٹ پر دستخط بھی ہو چکے ہیں، جس کا نوٹیفکیشن جلد جاری کردیا جائے گا۔ ملک شہزاد اعوان نے ٹرانسپورٹرز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کا ساتھ دینے پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔